top of page
Search

ذہنی صحت کے جسمانی صحت پر منفی اثرات





آپ کی جسمانی بیماری کسی ذہنی مسئلے کی علامت ہوسکتی ہے

ڈاکٹر محمد عمران یوسف (ٹرانسفرمیشن انٹرنیشنل)

ڈاکٹر محمد عمران یوسف ایک ممتاز بزنس مین اور ٹرانسفرمیشن انٹرنیشنل سوسائٹی کے بانی ہیں جو گزشتہ پچیس سال سے کنیڈا اور پاکستان سمیت دیگر ممالک میں خاص طور پر ذہنی صحت اور تعلیم کے حوالے سے خدمات سر انجام دے رہی ہے۔ ان سے ذہنی صحت کے بارے میں کسی مشورے کیلئے ؟؟ پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔


اگر آپ ٹی وی پر میرے مارننگ شوز دیکھتےہیں یا آپ باقاعدگی سے مجھ سنتے ہیں یا پھر آپ نے میرے کسی کورس میں شرکت کی ہے تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ میں ہمیشہ سے شخصیت کے چار پہلوؤں کی بات کرتا رہا ہوں… انسانی ذہن، جسم، جذبات اور روح۔ ان میں ذہن میری دلچسپی اور تحقیق کا موضوع ہے اور میں ایک زمانے سے اس پر کام کررہا ہوں۔

ایک زمانے تک انسانی جسم کو توجہ اور تحقیق کا موضوع بنایا گیا اور کہا گیاکہ جسم ہی انسانی شخصیت کا مرکز ہے اور اس پر سب سے زیادہ توجہ کرنے کی ضرورت ہے۔ لیکن، اب کہ جب گزشتہ پچاس سال میں انسانی سوچ پر بہت زیادہ تحقیقات کی جاچکی ہیں، اور ایسی مشینیں معرض وجود میں آچکی ہیں کہ جن سے کسی بھی انسان کے دماغ کی کیفیت اور حالت دیکھی اور جانی جاسکتی ہے، یہ بات ماہرین ذہنی صحت پورے استدلال کے ساتھ کہتے ہیں کہ انسان کی سوچ اور اس کا دماغ اُس کی شخصیت کا مرکز و محور ہے۔ گویا، اگر آپ کی دماغی اور ذہنی صحت درست نہیں تو اس کا اثر آپ کی پوری شخصیت اور زندگی پر ہوگا۔ اگر آپ کی خواہش ہے کہ آپ اپنی زندگی کو بہتر سے بہتر کریں تو آپ کو اس کیلئے جو سرا پکڑنا ہوگا، وہ آپ کا دماغ اور ذہن ہے۔

آج پوری دنیا میں دماغی اور ذہنی صحت پر بہت زیادہ زور دیا جارہا ہے اور اس کی ضرورت بھی ہے۔ پاکستان کی حالت بھی ذہنی صحت کے حوالے سے ناگفتہ بہ ہے۔ البتہ یہ چیزیں اتنی منظر عام پر اس لیے نہیں آتیں کہ اول تو ہمارے ہاں ابلاغ کا نظام اتنا درست نہیں کہ گاؤں دیہات اور دور دراز علاقوں کے حقائق دست یاب ہوں، دوسرے بیش تر ذہنی اور دماغی مسائل کو ذہنی مسائل سمجھا ہی نہیں جاتا، بلکہ انھیں جن اور آسیب وغیرہ کی غلط تعبیر دے کر متاثرہ فرد کے گھر والے تعویذ گنڈوں میں پڑجاتے ہیں۔

یاد رکھیے، انسان کی ذہنی اور دماغی کیفیت اس کی پوری شخصیت پر اثرانداز ہوتی ہے۔ اس تحریر میں، عمومی پریشانی سے پیدا ہونے والے اثرات کے بارے میں آپ کو آگاہ کرنے کی کوشش کروں گاکہ کیسے محض روزمرہ کی عمومی تشویش (اینزائٹی) اور ذہنی دباؤ بھی آپ کے جسم پر کیا اثرات مرتب کرتے ہیں۔

نروس سسٹم پر اثرات

آپ کا اعصابی نظام (نروس سسٹم) آپ کے دماغ، ریڑھ کی ہڈی، رگوں اور نیورونز نامی خاص قسم کے خلیات سے مرکب ہے۔ آپ کی پریشاں دماغی کے اثرات آپ کے اعصابی نظام پر بہ راہِ راست ہوتے ہیں۔ جب آپ بہت زیادہ پریشان ہوتے ہیں تو اس کی وجہ سے اسٹریس ہارمون کا اخراج شروع ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے دل کی دھڑکن اور سانس کی رفتار بڑھ جاتی ہے۔ بلڈ شوگر بڑھ جاتی ہے۔ اور بازووں اور ٹانگوں میں خون کی زیادہ مقدار بہنے لگتی ہے۔ اگر یہ کیفیت زیادہ عرصہ جاری رہے تو جسم کے اندر چلنے والی رگوں اور شریانوں سمیت عضلات اور خاص کر دل کی جسامت بڑھ جاتی ہے۔

جسمانی عضلات

جب آپ کسی شے کیلئے پریشان ہوتے ہیں تو آپ کندھوں اور گردن کے عضلات میں تناؤ پیدا ہوجاتا ہے اور یہ تناؤ آدھے سر کے درد، دردِ سر یا جھنجلاہٹ کا باعث بن سکتا ہے۔ ایسی صورت میں مساج کرنے یا اعصاب کو سکون دینے والی مشقیں کرنے سے فائدہ ہوتا ہے۔ یوگا اور مائنڈفلنس سمیت گہری سانسیں لینے سے بہتری آسکتی ہے۔

سانس میں تنگی

بہت زیادہ پریشان ہونے سے سانس لینے کی نارمل رفتار بھی متاثر ہوتی ہے اور اکثر لوگوں کو اس کا احساس ہی نہیں ہوتا۔ اگلی مرتبہ جب آپ زیادہ پریشان ہوں تو ایک منٹ کیلئے اپنی سانس پر توجہ کرکے دیکھ لیجیے۔ آپ کو اندازہ ہوجائے گاکہ نارمل حالت میں اور پریشانی کی حالت میں سانس کے انداز اور رفتار میں کیا فرق ہے۔ بہ ہر کیف، اگر آپ کو پہلے سے سانس کی کوئ تکلیف ہے مثلاً دمہ، پھیپڑوں کی کوئ بیماری وغیرہ تو پریشاں دماغی سے سانس کی تکلیف مزید ابتر ہوسکتی ہے۔

دل کی صحت

دل کی صحت پر ذہن کی صحت کا اثر بہت گہرا ہوتا ہے، حتیٰ کہ اگر آپ کسی وجہ سے تھوڑا سا بھی پریشان ہیں مگر طویل عرصے سے ہیں تو اس کے منفی اثرات آپ کے دل پر گہرے ہوسکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں، بلڈ پریشر بہت بڑھ سکتا ہے، حملہ قلب ہوسکتا ہے یا فالج بھی۔ اینزائٹی یا اسٹریسی کی کیفیت میں جب اسٹریس ہارمون خارج ہوتے ہیں تو یہ آپ کے دل کی رفتار کو بہت تیز اور سخت کرسکتے ہیں۔ اگر بار بار ایسا ہو تو خون کی رگیں سوج جاتی ہیں اور شریانیں سخت ہوجاتی ہیں۔ پھر ان پر کولیسٹرول جمنا شرو ع ہوجاتا ہے جو انتہائ خطرناک بلکہ جان لیوا ہوسکتا ہے۔

خون میں شکر (بلڈ شوگر)

بار بار پریشان ہونے سے اسٹریس ہارمون آپ کے خون میں ایندھن کی مقدار بھی بڑھادیتے ہیں۔ یہ ایندھن آپ کو خون میں شکر فراہم کرتی ہے۔ اگر واقعی خطرہ ہو تو یہ ایندھن بہت ضروری ہوتا ہے، لیکن اگر آپ خواہ مخواہ تشویش اور کرب میں مبتلا رہتے ہیں (جیسا کہ ہمارے ہاں عام ہے) تو آپ کے خون میں یہ ایندھن یعنی شکر جمع ہوتی رہتی ہے۔ یہاں تک کہ اس کی مقدار بڑھتے بڑھتے دل کی بیماریوں، فالج یا گردے کی بیماری کا سبب بنتی ہے۔

مدافعتی نظام

اسٹریس اور اینزائٹی کے اثر سے جسم کا مدافعتی نظام بھی کمزور پڑتا ہے اور یوں یہ مختلف جراثیم (بیکٹیریا اور وائرس) سے نمٹنے کے قابل نہیں رہتا۔ نتیجہ؟ آپ کا مدافعتی نظام کمزور اور پھر آ پ ہلکے اور معمولی جراثیم کی زد میں بھی فوری آجاتے ہیں۔

معدہ

پریشان ہوں تو پیٹ میں گڑ گڑ محسوس ہوتی ہے۔ حتیٰ کہ پریشانی کی شدت بڑھ جائے تو بعض لوگوں کو متلی بھی ہوتی ہے۔ بھوک اڑجاتی ہے اور کچھ کھانے کو جی نہیں کرتا۔ اگر یہ اکثر ہوتا رہے تو معدے میں درد رہنے لگتا ہے اور سوجن ہوجاتی ہے جو السر تک لے جاتی ہے۔ چکنائ دار، مصالحے دار اور زیادہ میٹھی چیزیں کھانے پر وہ ہضم نہیں ہوتیں۔ اس وجہ سے معدے میں مزید تیزابیت ہوجاتی ہے اور کھٹی ڈکاریں آتی ہیں۔

آنتیں

مسلسل تشویش اور کرب سے آنتیں بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتیں۔ چنانچہ ایسے افراد کو اسہال کی شکایت رہتی ہے یا پھر قبض ہوتا ہے۔ عموماً ہاضم گولیاں یا پھکی لینے سے عارضی افاقہ ہوتا ہے، لیکن اصل حل یہ ہے کہ وجہ بے وجہ پریشان رہنے کی عادت سے خود کو بچائیں۔

جنسی بے رغبتی

پریشاں خیالی اور پریشاں دماغی سے دماغی تھکن ہوتی ہے جس سے اکثر لوگوں کی جنسی خواہش بھی کمزور پڑجاتی ہے۔ بعض افراد ایسے میں اس غلط فہمی کا شکار ہوجاتے ہیں کہ وہ شاید نامرد ہوگئے ہیں اور پھر نامردی کے علاج کیلئے بھاگے پھرتے ہیں۔ لیکن، اصل سبب ان کا اسٹریس یا اینزائٹی یا ڈپریشن ہوتا ہے۔ یہ ذہنی مسئلہ حل ہوجائے تو اُن کی جواں مردی واپس آجاتی ہے۔ ورنہ تمام حربے بے کار جاتےہیں۔

اس تحریر میں آپ کو ذہنی پریشانی سے ہونے والے جسم پر منفی اثرات کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ عموماً لوگ جسمانی مرض کو بہت اہمیت دیتے ہیں اور معالجین بھی جسم کے عمومی ظاہری اسباب تلاش کرتے ہیں۔ گزارش یہ ہے کہ اپنے جسم کے ساتھ ساتھ اپنے ذہن اور دماغ کی صحت پر بھی توجہ کیجیے، کیوں کہ آپ کی جسمانی صحت، توانائ اور خوشی کا بہ راہِ راست تعلق آپ کی ذہنی صحت سے ہے۔


206 views0 comments

Komentáře


bottom of page